عنوان
معنی
١ - طرح، ڈھنگ سبیل، طور، پہلو۔ "اتنا کافی ہے کہ اسے کسی نہ کسی عنوان سے اس سے کوئی تعلق رہا۔" ( ١٩٥٠ء، چند ہم عصر، ٢٠٧ ) ٢ - کسی نظم یا مضمون وغیرہ کا سر نامہ۔ "عجم کا طریقہ یہ تھا کہ سلاطین کو خطوط لکھتے تھے ان میں عنوان پہلے بادشاہ کا نام ہوتا تھا۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٧٠:٣ ) ٣ - کسی کلام وغیرہ کا مطلب و مقصد یا تعلقات وغیرہ کو متعین و ظاہر کرنے والا، موضوع۔ شجر سایہ فگن، گل بار اور نازاں وہ کل بھی تھا مرے ہر خواب کا عنوان ( ١٩٨٢ء ساز سخن بہانہ ہے، ٥١ ) ٤ - کسی موضوع کی سرخی۔ " "انسان" کے عنوان سے جمیل الدین عالی بھی ایک طویل نظم لکھ رہے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، سمندر، ١٢ ) ٥ - تمہید، ابتدا، آغاز، سرنامہ۔ "اپنی دانست میں یہ سجھمتا ہے کہ وہ کسی تبدیلی کا عنوان بن جائے گا۔" ( ١٩٨٠ء، تشنگی کا سفر، ٩ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - طرح، ڈھنگ سبیل، طور، پہلو۔ "اتنا کافی ہے کہ اسے کسی نہ کسی عنوان سے اس سے کوئی تعلق رہا۔" ( ١٩٥٠ء، چند ہم عصر، ٢٠٧ ) ٢ - کسی نظم یا مضمون وغیرہ کا سر نامہ۔ "عجم کا طریقہ یہ تھا کہ سلاطین کو خطوط لکھتے تھے ان میں عنوان پہلے بادشاہ کا نام ہوتا تھا۔" ( ١٩٢٣ء، سیرۃ النبیۖ، ١٧٠:٣ ) ٤ - کسی موضوع کی سرخی۔ " "انسان" کے عنوان سے جمیل الدین عالی بھی ایک طویل نظم لکھ رہے ہیں۔" ( ١٩٨٤ء، سمندر، ١٢ ) ٥ - تمہید، ابتدا، آغاز، سرنامہ۔ "اپنی دانست میں یہ سجھمتا ہے کہ وہ کسی تبدیلی کا عنوان بن جائے گا۔" ( ١٩٨٠ء، تشنگی کا سفر، ٩ )