عہد

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وقت، زمانہ، دور۔ "آج کے بعد یہ ماحول، یہ عہد، یہ دور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔"      ( ١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ١٠ ) ٢ - دنیا  تو ذبح کرے جس کو اسے عہد ہی جانے قربان میں اس طرح کی قربانی بھی اچھی      ( ١٨٧٠ء، الماس درخشاں، ٣٣٩ ) ٣ - حکومت یا سلطنت کی مدت، اقتدار۔ "عہد محمد شاہی میں عیاشی اور رنگینی بہت بڑھ گئی تھی۔"      ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٥٩ ) ٤ - قول و قرار، قسم؛ وعدہ۔  خیر اب کیسی شکایات، مگر عہد کرو اب مجھے آتش غم میں نہیں تڑپاؤ گے      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٦٧ ) ٥ - باہمی فیصلہ، معاہدہ، باہمی اقرار۔ "عہد اس صورت میں معاملہ اور معاہدے کو کہا جاتا ہے جو دوشخصوں کے درمیان طے ہو جائے۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١١٣:١ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٦٤٩ کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وقت، زمانہ، دور۔ "آج کے بعد یہ ماحول، یہ عہد، یہ دور سب کچھ ختم ہو جائے گا۔"      ( ١٩٨٧ء، اور لائن کٹ گئی، ١٠ ) ٣ - حکومت یا سلطنت کی مدت، اقتدار۔ "عہد محمد شاہی میں عیاشی اور رنگینی بہت بڑھ گئی تھی۔"      ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٥٩ ) ٥ - باہمی فیصلہ، معاہدہ، باہمی اقرار۔ "عہد اس صورت میں معاملہ اور معاہدے کو کہا جاتا ہے جو دوشخصوں کے درمیان طے ہو جائے۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١١٣:١ )

جنس: مذکر