عیال
معنی
١ - اہلِ خانہ، بیوی بچے، کنبہ جس کا کوئی شخص کفیل ہو۔ محمد علی بھی ہے رکھتا عیال ہر اک عقل والا کرے یہ خیال ( ١٩٣٤ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ١٩، ٤:٣٢ ) ٢ - انحصار کرنے والے "تقریباً فرقۂ امامیہ کے تمام مجتہدین مظام اس علم شریف میں ان کے عیال ہیں۔" ( ١٩٢٥ء، تجلیات، ٢١٩:١ ) ٣ - بندہ، مخلوق۔ "بہلول نے آسماں کی طرف نظر اٹھا کے کہا تو اور میں دونوں خدا کے عیال (بندے) ہیں محال ہے کہ وہ تجھے تو یاد رکھے اور مجھے بھول جائے۔" ( ١٩٢٧ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٩:٤٩٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - انحصار کرنے والے "تقریباً فرقۂ امامیہ کے تمام مجتہدین مظام اس علم شریف میں ان کے عیال ہیں۔" ( ١٩٢٥ء، تجلیات، ٢١٩:١ ) ٣ - بندہ، مخلوق۔ "بہلول نے آسماں کی طرف نظر اٹھا کے کہا تو اور میں دونوں خدا کے عیال (بندے) ہیں محال ہے کہ وہ تجھے تو یاد رکھے اور مجھے بھول جائے۔" ( ١٩٢٧ء، اودھ پنچ، لکھنؤ، ٩:٤٩٢ )