غائب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - غیر موجود، غیر حاضر، پوشیدہ، مخفی، چھپا ہوا۔ "ساری ترجیحات میں عورت غائب ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریفہ، ٢١٠ ) ٢ - [ قواعد ]  وہ اسم جسکا ذکر اشارہ قریب یا بعید کے ساتھ کیا جائے، جیسے: یہ آیا، وہ گیا میں "یہ" اور "وہ"۔ "ضمیر شخصی غائب اور ضمیر اشارہ بظاہر ایک ہی ہیں۔"      ( ١٩٧١ء، جامع القواعد (حصہ صرف)، ٣٦١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غیر موجود، غیر حاضر، پوشیدہ، مخفی، چھپا ہوا۔ "ساری ترجیحات میں عورت غائب ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، آجاؤ افریفہ، ٢١٠ ) ٢ - [ قواعد ]  وہ اسم جسکا ذکر اشارہ قریب یا بعید کے ساتھ کیا جائے، جیسے: یہ آیا، وہ گیا میں "یہ" اور "وہ"۔ "ضمیر شخصی غائب اور ضمیر اشارہ بظاہر ایک ہی ہیں۔"      ( ١٩٧١ء، جامع القواعد (حصہ صرف)، ٣٦١ )

اصل لفظ: غیب