غافل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - غفلت کرنے والا، بے پروا، بے فکر، غیرمتوجہ۔ "دونوں میں بڑا فرق تھا، ایک اللّٰہ سے ڈرنے والا اور دوسرا غافل"      ( ١٩٨٠ء، روشنی، ٣٦٢ ) ٢ - بے خبر، بے ہوش، لاعلم۔  رہ گیا کوئی تڑپ کر کوئی غافل ہو گیا آپ دیکھیں تو سہی کیا رنگِ محفل ہو گیا      ( ١٩٨٣ء، سرمایہ تغّزل، ٦٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غفلت کرنے والا، بے پروا، بے فکر، غیرمتوجہ۔ "دونوں میں بڑا فرق تھا، ایک اللّٰہ سے ڈرنے والا اور دوسرا غافل"      ( ١٩٨٠ء، روشنی، ٣٦٢ )

اصل لفظ: غفل