غالب
معنی
١ - قوی، زبردست، زور آور۔ "اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١١:١ ) ٢ - غلبہ پانے والا، فاتح، زیر کرنے والا۔ "کچھ دیر تک معلوم نہ ہوتا تھا کہ کون مغلوب ہوگا اور کون غالب، مگر آخر کو بادشاہی لشکر کو فتح ہوئی۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ٣٠٨:١ ) ٣ - بالادست، فائق، مسلّط، چھاپا ہوا۔ "سائنس اور فلسفے کی کتابیں وہ لوگ لکھتے ہیں جن کے ہیاں عقلی، منطقی اور معروضی طریقہ غالب ہوتا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٣٢١ ) ٤ - اکثر، پیشتر، زیادہ تر۔ "جس میں ہمارے معاشرے کا غالب حصہ شریک ہے۔" ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ١٠ ) ٥ - زیادہ، بہت زیادہ۔ "انتہائے جنوب میں سو میری تھیے جو وہاں غالب تعداد میں بستے تھے۔" ( ١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، ) ٦ - شائد، قوی گمان ہے۔ پیکان ترا جگر کے اگر متصل نہ ہو غالب کے بعد مرگ بھی تسکین دل نہ ہو ( ١٨٢٤ء، دیوانِ مصحفی، انتخاب رامپور، ١٨٣ ) ٨ - اردو اور فارسی کے مشہور شاعر مرزا اسد اللہ خاڈ عرف مرزا نوشہ کا تخلص جو 8 رجب المرجب 1212 ھجری بمطابق 31 دسمبر 1797ء کو آگرے میں پیدا ہوئے اور 2 ذی قعد 1285 ھجری بمطابق 15 فروری 1869ء کو دہلی میں وفات پائی۔ ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور ( ١٨٦٩ء، دیوان غالب، ١٧٠ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قوی، زبردست، زور آور۔ "اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١١:١ ) ٢ - غلبہ پانے والا، فاتح، زیر کرنے والا۔ "کچھ دیر تک معلوم نہ ہوتا تھا کہ کون مغلوب ہوگا اور کون غالب، مگر آخر کو بادشاہی لشکر کو فتح ہوئی۔" ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٥، ٣٠٨:١ ) ٣ - بالادست، فائق، مسلّط، چھاپا ہوا۔ "سائنس اور فلسفے کی کتابیں وہ لوگ لکھتے ہیں جن کے ہیاں عقلی، منطقی اور معروضی طریقہ غالب ہوتا ہے۔" ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٣٢١ ) ٤ - اکثر، پیشتر، زیادہ تر۔ "جس میں ہمارے معاشرے کا غالب حصہ شریک ہے۔" ( ١٩٨٢ء، برش قلم، ١٠ ) ٥ - زیادہ، بہت زیادہ۔ "انتہائے جنوب میں سو میری تھیے جو وہاں غالب تعداد میں بستے تھے۔" ( ١٩٨٦ء، دنیا کا قدیم ترین ادب، )