غرقاب

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - گرداب، بَھْنور، ورطہ۔  لگا پڑنے کو جب وہ عرش رتبہ پڑا غرقاب میں جرت کے عتبہ      ( ١٧٩١ء، ہشت بہشت، ١٦١:٧ ) ٢ - سیلاب، ڈباؤ پانی، گہرا پانی۔ "بھیجا اُن پر غرقاب اور ٹڈی اور چچڑی اور مینڈک اور لوہو، کئی نشانیاں جدی جدی، پھر تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گہنگار۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٤٩٨:١ ) ١ - ڈوبا ہوا، پانی میں ڈوبا ہوا۔  فرعون کو غرقاب سمجھنے والو فرعون کی اولاد ابھی باقی ہے      ( ١٩٧٧ء، سرکشیدہ، ٣٨١ ) ٢ - محو، مستغرق، کھویا ہوا، مدہوش۔ "سمر قندو بخارا کو جنکی دھن میں وہ نو عمر غرقاب ہے اس کے صرف خالِ رخسار کا صدقہ بنا کر اسکے سامنے پیش کرتے تھے۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظ ) ٣ - گہرا عمیق (پایاب کی ضد)۔  بحرِ الفت میں قدم سوچ کے رکھنا پروین ہے کنارے ہی پہ غرقاب نہ پایاب نہیں      ( ١٩١٣ء، دیوانِ پروین، ٨٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشت اسم 'غرق' کو فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'آب' کے ساتھ ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم و صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سیلاب، ڈباؤ پانی، گہرا پانی۔ "بھیجا اُن پر غرقاب اور ٹڈی اور چچڑی اور مینڈک اور لوہو، کئی نشانیاں جدی جدی، پھر تکبر کرتے رہے اور تھے وہ لوگ گہنگار۔"      ( ١٨٤٥ء، احوال الانبیا، ٤٩٨:١ ) ٢ - محو، مستغرق، کھویا ہوا، مدہوش۔ "سمر قندو بخارا کو جنکی دھن میں وہ نو عمر غرقاب ہے اس کے صرف خالِ رخسار کا صدقہ بنا کر اسکے سامنے پیش کرتے تھے۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظ )

جنس: مذکر