غریق

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ڈوبا ہوا، غرق۔ "١٩٠٧ء سے پہلے یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ دورِ موسٰی کے فرعونِ غریق کی لگاش محفوظ ہے یا نہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرورِ عالم، ٤٤٩:١ ) ٢ - محو، مستغرق، مدہوش۔  عروسِ برق نے اپنا نقاب اُلٹ کے تمہیں غریقِ مستی ابرِ بہار دیکھا ہے      ( ١٩٤١ء، صبحِ بہار، ٧٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٩٧ء کو "دیوان ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈوبا ہوا، غرق۔ "١٩٠٧ء سے پہلے یہ کسی کو معلوم نہ تھا کہ دورِ موسٰی کے فرعونِ غریق کی لگاش محفوظ ہے یا نہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرورِ عالم، ٤٤٩:١ )

اصل لفظ: غرق