غصیل
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - وہ شخص جسکو جلد غصہ آئے، بدمزاج، مغلوب الغضب، غُصہ وَر۔ "میں بھی جو اتنا غصیل اور طاقتور اور لافانی ہوں۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ١٠٠ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'غُصّہ' کی 'ہ' حذف کر اور اسکی جگہ 'یل' بطور لاحقہ صفت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٠ء کو "آب حیات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - وہ شخص جسکو جلد غصہ آئے، بدمزاج، مغلوب الغضب، غُصہ وَر۔ "میں بھی جو اتنا غصیل اور طاقتور اور لافانی ہوں۔" ( ١٩٨٨ء، نشیب، ١٠٠ )
جنس: مذکر