غلبہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کثرت، فراوانی، زیادتی۔ "سنسکرت میں ہمیشہ انکار یا ضائع اور ریتی اور حسن مان کا غلبہ رہا ہے"      ( ١٩٣٣ء، نقدالادب، ٥٦ ) ٢ - حملہ، ہجوم، زور، شدت۔ "نشے کے غلبے نے اونچ نیچ کے تمام بندھن توڑ دیئے تھے"      ( ١٩٧٨ء، جانگلوس، ٢٠٧ ) ٣ - جیت، فتح، بالادستی، قابو، تسلط۔ "اور بالآخر انہوں نے غلبہ حاصل کر لیا"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ١١٥ ) ٤ - سبقت، برتری، فوقیت۔ "انہیں ایک دوسرے کے غلبے یا ایک دوسرے کے تئیں بے اعتمادی کے کسی جذبے کو اپنے دل میں جگہ نہیں دینا چاہئے"      ( ١٩٧٥ء، آتشِ چنار، ٩٣٠۔۔ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧٤٤ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کثرت، فراوانی، زیادتی۔ "سنسکرت میں ہمیشہ انکار یا ضائع اور ریتی اور حسن مان کا غلبہ رہا ہے"      ( ١٩٣٣ء، نقدالادب، ٥٦ ) ٢ - حملہ، ہجوم، زور، شدت۔ "نشے کے غلبے نے اونچ نیچ کے تمام بندھن توڑ دیئے تھے"      ( ١٩٧٨ء، جانگلوس، ٢٠٧ ) ٣ - جیت، فتح، بالادستی، قابو، تسلط۔ "اور بالآخر انہوں نے غلبہ حاصل کر لیا"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ١١٥ ) ٤ - سبقت، برتری، فوقیت۔ "انہیں ایک دوسرے کے غلبے یا ایک دوسرے کے تئیں بے اعتمادی کے کسی جذبے کو اپنے دل میں جگہ نہیں دینا چاہئے"      ( ١٩٧٥ء، آتشِ چنار، ٩٣٠۔۔ )

اصل لفظ: غلب
جنس: مذکر