غلیظ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غلاظت، فُضْلَہ، پاخانہ۔ "انگلیوں سے جلے ہوئے غلیظ کو صاف کیا۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٢٥ ) ١ - گاڑھا، غیر سیال (رقیق کی ضد) "مثل شربت کے غلیط القوام ہو جاوے۔"      ( ١٩٣٠ء، جامع الغنون، ١١١:٢ ) ٢ - موٹا، دبیز، دل دار، گہرا (کمیت و کیفیت کے اظہار کے لیے) "منہ سے غلیط دھواں نکلا اور گویا کمر کا مفلوج گریہ چٹاخ سے بولا۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٦٦ ) ٣ - کثیف، میلا، گدلا۔  بوجھل اور غلیظ رطوبت بھری فضا چاروں طرف محیط ہے اک سخت گیر جال      ( ١٩٦٦ء، چراغ اور کنول، ١٢٤ ) ٤ - سخت، شدید، بھاری۔ "آج تم نے کوئی غلیظ غذائیت زیادہ کھائی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٧٤ ) ٥ - گندہ، نجس، ناپاک۔ "میں ان لطیفوں کو دہرا کر کہانی کو غلیظ نہیں کرنا چاہتا۔"      ( میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ٢١٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت اور شاذ بطور اسم استعمالہ وتا ہے سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غلاظت، فُضْلَہ، پاخانہ۔ "انگلیوں سے جلے ہوئے غلیظ کو صاف کیا۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٢٥ ) ١ - گاڑھا، غیر سیال (رقیق کی ضد) "مثل شربت کے غلیط القوام ہو جاوے۔"      ( ١٩٣٠ء، جامع الغنون، ١١١:٢ ) ٢ - موٹا، دبیز، دل دار، گہرا (کمیت و کیفیت کے اظہار کے لیے) "منہ سے غلیط دھواں نکلا اور گویا کمر کا مفلوج گریہ چٹاخ سے بولا۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٦٦ ) ٤ - سخت، شدید، بھاری۔ "آج تم نے کوئی غلیظ غذائیت زیادہ کھائی ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما، ١٧٤ ) ٥ - گندہ، نجس، ناپاک۔ "میں ان لطیفوں کو دہرا کر کہانی کو غلیظ نہیں کرنا چاہتا۔"      ( میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، ٢١٠ )

اصل لفظ: غلظ