غماز

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ابرو یا آنکھ سے اشارے کرنے والا۔  ہو جِنکی ادا ادا کتاب نغمات لین غمزۂ غمّاز وہ کار زباں      ( ١٩٧٤ء، لحنِ صریر، ٦٧ ) ٢ - چغل خور، عیب بیان کرنے والا یا ظاہر کرنے والا، جاسوس، سخن چیں۔ "پاؤندے نافۂ آہُو لایا کرتے تھے مُشک تتارکا نام ہی اس کے وطن کا غمّاز ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٣٩ ) ٣ - طعنہ دینے والا۔  میں نہ باز آؤں گا نظّارۂ جاناں سے کبھی جمع ہیں بزم میں غمّاز اگر ہونے دو      ( ١٩١٩ء، کلیاتِ رعب، ١٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - چغل خور، عیب بیان کرنے والا یا ظاہر کرنے والا، جاسوس، سخن چیں۔ "پاؤندے نافۂ آہُو لایا کرتے تھے مُشک تتارکا نام ہی اس کے وطن کا غمّاز ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، فیضانِ فیض، ٣٩ )

اصل لفظ: غمز