غیور
معنی
١ - بہت غیرتمند، بڑی غیرت والا، اپنی عزت کا پاس لحاظ کرنے والا۔ "گھوڑا ایک ایسے غیور اور باحمیت شخص کی طرح . اپنی بے بسی کی حالت میں ذراسی سبکی کو انتہائی ذلت سمجھ کر بگڑ جاتا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٥٢ ) ٢ - خود دار۔ "انکی طبیعت نہایت غیور اور بے پروا واقع ہوتی تھی صدہا امرائے روزگار نے چاہا کہ یہ درباری پابندی اختیار کریں . مگر پابندی پسند نہ کی۔" ( ١٩٢٨ء، حیات مومن (نگار کراچی، اگست، ١٩٩٠) ) ٣ - بہادر، آن پر مرمٹنے والا۔ "اُسے اطلاع دو کہ وہ ایک بہادر اور غیور باپ کی بیٹی کی طرح زرہ بکتر اور اسلحہ سے لیس ہو کر تیار ہو جائے۔" ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، نومبر، ٥٢ ) ٤ - بہت رشک کرنے والا۔ او حسن بہت غیور ہے تو نزدیک بھی ہو تو دور ہے تو ( ١٩٢٥ء، شوق قدوائی، مثنوی حسن، ٢٣ ) ٥ - خدا کا ایک صفاتی نام۔ پلائی امر خدائے جلیل نے وہ چیز کہ جسکو جانتا ہے خود وہ قادر و غیور ( ١٨٨٦ء، دیوانِ سخن، ١٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بہت غیرتمند، بڑی غیرت والا، اپنی عزت کا پاس لحاظ کرنے والا۔ "گھوڑا ایک ایسے غیور اور باحمیت شخص کی طرح . اپنی بے بسی کی حالت میں ذراسی سبکی کو انتہائی ذلت سمجھ کر بگڑ جاتا ہے۔" ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٥٢ ) ٢ - خود دار۔ "انکی طبیعت نہایت غیور اور بے پروا واقع ہوتی تھی صدہا امرائے روزگار نے چاہا کہ یہ درباری پابندی اختیار کریں . مگر پابندی پسند نہ کی۔" ( ١٩٢٨ء، حیات مومن (نگار کراچی، اگست، ١٩٩٠) ) ٣ - بہادر، آن پر مرمٹنے والا۔ "اُسے اطلاع دو کہ وہ ایک بہادر اور غیور باپ کی بیٹی کی طرح زرہ بکتر اور اسلحہ سے لیس ہو کر تیار ہو جائے۔" ( ١٩٨٩ء، افکار، کراچی، نومبر، ٥٢ )