ف

قسم کلام: حرف تہجی

معنی

١ - صوتی اعتبار سے اردو حروفِ تہجی کا چھتیسواں فارسی کا تئیسواں اور عربی کا بیسواں حرف، بحساب جمل اس کی قیمت 80 ہے۔ ثنایا عُلیا یعنی جب سامنے کے دو بالائی دانتوں کا کنارہ نیچے کے لب سے ملتا ہے تب ف ادا ہوتا ہے۔ کبھی پ اور کبھی و سے بدل جاتا ہے جیسے سفید سے سپید اور فام سے وام۔ "علمائے تفسیر نے فرمایا ہے کہ اس سُورت (فاتحہ) میں ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف یہ سات حروف نہیں ہیں۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٣٧:١ ) ٢ - کسی بات کے نتیجے کے لیے استعمال کیا جانے والا حرف، فائدے کا مخفف۔ "ف : ہرن کے شکار کے مختلف طریقے بیان کیے جا چکے ہیں اوسی کے ضمن میں یہ بات بھی قابلِ بیان ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، شکار، قطب یار جنگ، ١٥٣:١ ) ٣ - سنہ فصلی کی علامت۔ "ایسے سنہ کے آخر میں اکثر "ف" اور کبھی کبھار پورا لفظ "فصلی" لکھتے ہیں۔      ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٦٠ )

اشتقاق

صوتی اعتبار سے اردو حروف تہجی کا چھتیسواں فارسی کا تئیسواں اور عربی کا بیسواں حرف ہے اردو حرف اصلی ہے اور بطور حرف تہجی مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - صوتی اعتبار سے اردو حروفِ تہجی کا چھتیسواں فارسی کا تئیسواں اور عربی کا بیسواں حرف، بحساب جمل اس کی قیمت 80 ہے۔ ثنایا عُلیا یعنی جب سامنے کے دو بالائی دانتوں کا کنارہ نیچے کے لب سے ملتا ہے تب ف ادا ہوتا ہے۔ کبھی پ اور کبھی و سے بدل جاتا ہے جیسے سفید سے سپید اور فام سے وام۔ "علمائے تفسیر نے فرمایا ہے کہ اس سُورت (فاتحہ) میں ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف یہ سات حروف نہیں ہیں۔"      ( ١٩٥٩ء، تفسیر ایوبی، ١٣٧:١ ) ٢ - کسی بات کے نتیجے کے لیے استعمال کیا جانے والا حرف، فائدے کا مخفف۔ "ف : ہرن کے شکار کے مختلف طریقے بیان کیے جا چکے ہیں اوسی کے ضمن میں یہ بات بھی قابلِ بیان ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، شکار، قطب یار جنگ، ١٥٣:١ ) ٣ - سنہ فصلی کی علامت۔ "ایسے سنہ کے آخر میں اکثر "ف" اور کبھی کبھار پورا لفظ "فصلی" لکھتے ہیں۔      ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٦٠ )