فائض

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - کثرت کی وجہ سے بہہ نکلنے والا، کثیر، وافر، فیض رساں، فیض پہنچانے والا۔ "انسانی ارادہ بھی . حق تعالٰی سے فائض اور صاد ہونے والی اشیاء میں ایک شے وہ بھی ہے لیکن اس حیثیت سے نہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٢٩٨ ) ٢ - فیض پانے والا، فیض یافتہ۔  جہاں اس کی بدولت نقد ایماں سے ہوا فائض کہ تھا وہ سینہ ے کینہ جو گنجینہ ہدایت کا      ( ١٨٧٢ء، مظہر عشق، ١٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٣٢ء کو "کربل کتھا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کثرت کی وجہ سے بہہ نکلنے والا، کثیر، وافر، فیض رساں، فیض پہنچانے والا۔ "انسانی ارادہ بھی . حق تعالٰی سے فائض اور صاد ہونے والی اشیاء میں ایک شے وہ بھی ہے لیکن اس حیثیت سے نہیں۔"      ( ١٩٥٦ء، مناظر احسن گیلانی، عبقات، ٢٩٨ )

اصل لفظ: قاض