فاحشہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - زنا، بدکاری، گناہ، بدفعلی۔ "یہ لوگ کافر تھے لڑکوں سے فاحشہ کرتے تھے۔"      ( ١٩٨٣ء، طلائع المقدور من مطالع الاہور، ١٣ ) ١ - بدکار عورت۔  یہ عورت فاحشہ ہے قاتلہ ہے بلکہ ڈائن ہے یہ عورت دشمن ناموس ہے عصمت کی خائن ہے      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٧٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنوں اور ساخت کے ساتھ بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٨٤ء کو "تذکرۂ غوثیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زنا، بدکاری، گناہ، بدفعلی۔ "یہ لوگ کافر تھے لڑکوں سے فاحشہ کرتے تھے۔"      ( ١٩٨٣ء، طلائع المقدور من مطالع الاہور، ١٣ )

اصل لفظ: فحش