فارسی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - ملکِ فارِس کے رہنے والے۔  کیا جانیے کہ بولیں گے کیا واں کے فارسی جرات گئے جو شعر ترے اصفہان کو      ( ١٨٠٩ء، کلیات جرات، ١١٤ ) ٢ - ایران کی زبان کا نام۔ "لفظ فارسی قدیم تر زمانے ہی سے ایرانی صوبوں میں بولی جانے والی بولیوں میں سے ایک کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٢٧:٣ ) ٣ - [ موسیقی ]  وہ بیت یا شعر جسکو تال یا الاپ کے ساتھ ملا کر یا ترتیب دے کر گایا جائے۔ "جب امیر خسرو دہلوی نے ایرانی اور ہندوستانی موسیقی کے امتزاج سے نئی چیز پیدا کی اور اسکے لیے نئی اصطلاحات مثلاً . فارسی، غزل وغیرہ وضع کیں۔"      ( ١٩٢٦ء، اورئینٹل کالج میگزین، مئی، ٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے دخیل اسم 'فارس' کے آخر پر 'ی' بطور لاحقہ نسبت لگانے سے بنا۔ جو اردو میں اپنا اصل مفہوم و ساخت کے ساتھ بطور صفت بھی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧٤١ء کو "دیوان شاکر ناجی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ایران کی زبان کا نام۔ "لفظ فارسی قدیم تر زمانے ہی سے ایرانی صوبوں میں بولی جانے والی بولیوں میں سے ایک کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔"      ( ١٩٦٨ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٦٢٧:٣ ) ٣ - [ موسیقی ]  وہ بیت یا شعر جسکو تال یا الاپ کے ساتھ ملا کر یا ترتیب دے کر گایا جائے۔ "جب امیر خسرو دہلوی نے ایرانی اور ہندوستانی موسیقی کے امتزاج سے نئی چیز پیدا کی اور اسکے لیے نئی اصطلاحات مثلاً . فارسی، غزل وغیرہ وضع کیں۔"      ( ١٩٢٦ء، اورئینٹل کالج میگزین، مئی، ٣ )

اصل لفظ: فارْس