فارغ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - مطئمن، بے فکر، فارغ البال، آسودہ، بے نیاز۔ خوش ہوں کہ بہت پُختہ ہیں سودائی ترے فارغ ہیں تمنا سے تمنائی ترے ( ١٩٨٢ء، دستِ زرفشاں، ١٤٣ ) ٢ - خالی، آزاد، وہ شخص جو کام سے فرصت پا چکا ہو۔ فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک ( ١٩٣٥ء، بالِ جبریل، ٦٣ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت اسعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٤٢١ء کو بندہ نواز کے "شکار نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: فرغ