فاسد

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - فساد یا خرابی پیدا کرنے والا، بُرا، بگڑا ہوا، ضرر رساں، خراب، نقصان دہ۔ "کردار کے آلام و مصائب میں تخیّلی شرکت سے فاسد اور غیر معتدل جذبات کا نکاس ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٣٥ ) ٢ - [ بیع وغیرہ ]  باطل، ناجائز، قانوناً بے اثر۔ "جو بیع بدون تراضی کے ہوتی ہے وہ فاسد ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، حق نامہ عباسیہ (سلہٹ میں اردو، ١٨٣) )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی اور ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٥٥ء کو "آرائش محفل" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فساد یا خرابی پیدا کرنے والا، بُرا، بگڑا ہوا، ضرر رساں، خراب، نقصان دہ۔ "کردار کے آلام و مصائب میں تخیّلی شرکت سے فاسد اور غیر معتدل جذبات کا نکاس ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٣٥ ) ٢ - [ بیع وغیرہ ]  باطل، ناجائز، قانوناً بے اثر۔ "جو بیع بدون تراضی کے ہوتی ہے وہ فاسد ہے۔"      ( ١٩٢٤ء، حق نامہ عباسیہ (سلہٹ میں اردو، ١٨٣) )

اصل لفظ: فسد