فاعل
معنی
١ - کسی کام کرنے والا، جس سے کوئی سرزد ہو۔ "بالآخر ایک تیسرا مذہب ایجاد ہوا یعنی خدا بھی فاعلِ مختار ہے اور انسان بھی۔" ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ٤٩:١ ) ٢ - ایجاد کرنے والا، موجد۔ پھراتا سو آپ حکم میں دل تہیں حقیقت میں فعال و فاعل نہیں ( ١٦٧٥ء، گلشن عشق، ٧ ) ٣ - [ قواعد ] وہ اسم جس سے فعل صادر ہو۔ "اردو زبان کے قواعد کے مطابق جملے میں فاعل سب سے پہلے مفعول اگر ہو تو اس کے بعد۔" ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٤٤ ) ٤ - [ کنایۃ ] لوطی، اغلام باز (عموماً مفعول کے ساتھ)۔ "جسکو قومِ لوط کا عمل کرتے پاؤ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٧٤:٢ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی کام کرنے والا، جس سے کوئی سرزد ہو۔ "بالآخر ایک تیسرا مذہب ایجاد ہوا یعنی خدا بھی فاعلِ مختار ہے اور انسان بھی۔" ( ١٩٠٤ء، مقالاتِ شبلی، ٤٩:١ ) ٣ - [ قواعد ] وہ اسم جس سے فعل صادر ہو۔ "اردو زبان کے قواعد کے مطابق جملے میں فاعل سب سے پہلے مفعول اگر ہو تو اس کے بعد۔" ( ١٩٨٥ء، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ٤٤ ) ٤ - [ کنایۃ ] لوطی، اغلام باز (عموماً مفعول کے ساتھ)۔ "جسکو قومِ لوط کا عمل کرتے پاؤ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو۔" ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ٧٤:٢ )