فاقہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کھانا نہ ملنا یا کھانا، بھوکا رہنا۔  یوں کوفت سے پایا کچھ افاقہ تھا گو اُسے تین دن سے فاقہ      ( ١٩٣٢ء، جگ بیتی، ٧ ) ٢ - نہی دستی، افلاس، محتاجی۔ "روحانی غذا کی تلاش و جستجو میں فقرو فاقے کو ہیچ سمجھ کر گام رسائی کریں۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٤:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نہی دستی، افلاس، محتاجی۔ "روحانی غذا کی تلاش و جستجو میں فقرو فاقے کو ہیچ سمجھ کر گام رسائی کریں۔"      ( ١٩٣٩ء، آئین اکبری (ترجمہ)، ٤:٢ )

اصل لفظ: فوق
جنس: مذکر