فجر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پو پھٹنے کا وقت، لڑکا، صبح، سحر۔  اگلا کام کیا ہو وقت رک نہ سنگ نہ ساک ویکھے کس کو خبر یارو رات شاہ محمد جاگتا رہ جانے فجر ویلے تیرے نام کیا ہو      ( ١٩٧٧ء، من کے تار، ٥٣ ) ٢ - فجر کی نماز، صبح کی نماز۔ "فجر کا وقت صبح کی پو پھٹنے سے شروع ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٣٠:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٥ء "قصہ بے نظیر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - فجر کی نماز، صبح کی نماز۔ "فجر کا وقت صبح کی پو پھٹنے سے شروع ہوتا ہے۔"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١٣٠:١ )

اصل لفظ: فجر
جنس: مؤنث