فدوی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عاشق، فریفتہ، سِدا۔  مرشد بھائی پر فدوی ہے سرن مرشد بھائی کے گہے      ( ١٦٥٤ء، گنج شریف، ١٦٥ ) ١ - فدا ہونے والا، جاں نثار، قربان ہونے والا، عموماً درخواست وغیرہ میں درخواست گزار اپنے نام کی بجائے لکھتا ہے، بندہ۔  آپ بے جرم یقیناً میں مگر یہ فِدوی آج اس کام پہ مامور بھی مجبور بھی ہے      ( ١٩٨٦ء، قطعہ کلامی، ١٢٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے دخیل کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم نیز بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٥٤ء کو "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔