فرازی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - بلندی، اونچائی۔  گرچہ لب بوسی نہ پاؤں پائے بوسی بس ہے مجھ تجھ محبت کوں صنم پست و فرازی ہے مباح      ( ١٦٧٩ء، دیوان شاہ سلطان ثانی، ٢٥ ) ٢ - [ لاحقہ ]  بطور لاحقہ تراکیب میں بلند کرنے کے معنی دیتا ہے۔ "سرفراز، سرفرازی، گردن فراز، گردن فرازی."      ( ١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠٣ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'فراز' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت و لاحقۂ نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے نیز یہ کئی تراکیب میں بطور لاحقہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٧٩ء کو "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ لاحقہ ]  بطور لاحقہ تراکیب میں بلند کرنے کے معنی دیتا ہے۔ "سرفراز، سرفرازی، گردن فراز، گردن فرازی."      ( ١٩٢١ء، وضع اصطلاحات، ١٠٣ )

اصل لفظ: فراز
جنس: مؤنث