فرخ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - مبارک، مسعود، اقبال مند۔ یاد آتے ہیں وہ ازمنۂ فرخ و سعید جب تھا بلا مبالغہ ہر روز روزِ عید ( ١٩١١ء، فردوس تخیل، ٢٨ ) ٢ - خوبصورت، خوش شکل۔ روئے فرخ پہ جو ہیں تیرے برستے انوار تار بارش ہے بنا ایک سراسر سہرا ( ١٨٥٤ء، دیوان ذوق، ٢٥٨ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت فر (بمعنی دبدبہ، شان و شوکت) کے بعد فارسی ہی سے ماخوذ اسم رخ لانے سے بنا جو اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: فرخ
جنس: مذکر