فرعونی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غرور، تکبّر، سرکشی، ظلم۔ "اْنکا فرعونی انداز گفتگو انکا یہ عقیدہ کہ مذہب کو عقل سے کوئی لگاؤ نہیں اور اُنکا یہ پندار کہ وہ عام سطح سے بہت بلند ہیں۔"      ( ١٩٦٣ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکرو فن، ١٠٥ ) ١ - فرعون سے منسوب، سرکش اور ظالم شخص۔      "فرعونی قدرۃ اس عذاب الیم سے بلبلا اُٹھے۔"     رجوع کریں:  فرعون ( ١٩٥٤ء، حیواناتِ قرآنی، ٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم علَم 'فرعون' کے بعد 'ی' بطور لاحقہ نسبت | لاحقہ کیفیت لانے سے بنا جو اردو میں بطور اسم نیز بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غرور، تکبّر، سرکشی، ظلم۔ "اْنکا فرعونی انداز گفتگو انکا یہ عقیدہ کہ مذہب کو عقل سے کوئی لگاؤ نہیں اور اُنکا یہ پندار کہ وہ عام سطح سے بہت بلند ہیں۔"      ( ١٩٦٣ء، نیاز فتح پوری شخصیت اور فکرو فن، ١٠٥ ) ١ - فرعون سے منسوب، سرکش اور ظالم شخص۔      "فرعونی قدرۃ اس عذاب الیم سے بلبلا اُٹھے۔"     رجوع کریں:  فرعون ( ١٩٥٤ء، حیواناتِ قرآنی، ٤٨ )

اصل لفظ: فِرعَون
جنس: مؤنث