فرمائش

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حکم، مانگ، طلب، گزارش، خواہش، تمنا، اِیما، طلبی۔ "جواب میں سینکڑوں فرمائشیں آ گئیں مگر علامہ جن کی واحدی صاحب سے بے نظیر دوستی تھی ان کے اصرار کو برابر ٹالتے رہے۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٣٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں 'فَرمُودَن' مصدر سے حاصل مصدر ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حکم، مانگ، طلب، گزارش، خواہش، تمنا، اِیما، طلبی۔ "جواب میں سینکڑوں فرمائشیں آ گئیں مگر علامہ جن کی واحدی صاحب سے بے نظیر دوستی تھی ان کے اصرار کو برابر ٹالتے رہے۔"      ( ١٩٨٣ء، نایاب ہیں ہم، ٣٣ )

اصل لفظ: فَرْمُودَن
جنس: مؤنث