فشاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جھاڑتا ہوا، جھاڑنے والا، چھڑکنے والا، برسنے والا، مرکبات میں بطور لاحقہ فاعلی مستعمل ہو کر چھڑکنے والا کے معنی دیتا ہے۔ "گلستاں در گلستاں'، گل چکاں، گوہر فشاں، رقصاں۔"      ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ٤٠ )

اشتقاق

فارسی زبان میں 'فشاندن' مصدر سے مشتق صیغۂ امر ہے جو بطور صفت بھی استعمال ہوتا ہے اور تراکیب میں بطور لاحقہ فاعلی بھی۔ اردو میں سب سے پہلے تحریراً ١٧٨٨ء کو "جہاں دار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جھاڑتا ہوا، جھاڑنے والا، چھڑکنے والا، برسنے والا، مرکبات میں بطور لاحقہ فاعلی مستعمل ہو کر چھڑکنے والا کے معنی دیتا ہے۔ "گلستاں در گلستاں'، گل چکاں، گوہر فشاں، رقصاں۔"      ( ١٩٧٠ء، یادوں کی برات، ٤٠ )

اصل لفظ: فِشانْدَن