فضل
معنی
١ - مہربانی، عنایت، کرم۔ "وہ مہربان ہو کر مدعا پوچھے گا اور خدا کے فضل و کرم سے تیری مراد پوری ہو گی۔" ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ٣٧ ) ٢ - فضیلت، بڑائی بزرگی۔ "سودا کو اردو ہجو و ہجا میں نہ صرف فضلِ تقدم حاصل ہے بلکہ انکے کلام سے طنزیات کی بہترین صلاحیت و استعداد بھی نمایاں ہے۔" ( ١٩٣٣ء، طنزیات و مضحکات، ٤٦ ) ٣ - بخشش، عطا، احسان۔ "یہ فضل میرا ہے کہ جس کو جو چاہوں وہ دوں۔" ( ١٨٧٣ء، مظہر العجائب (ترجمہ)، ٦٢ ) ٤ - زیادتی، افزونی۔ "جُو کا مبادلہ جو سے جوی کا توں اوردست بدست چائے اور فضل (زیادتی) سود ہے۔" ( ١٩٧٤ء، فکر و نظر، اسلام آباد جنوری،خ ٥٢٥ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٠٣ء کو "شرحِ تمہیدات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مہربانی، عنایت، کرم۔ "وہ مہربان ہو کر مدعا پوچھے گا اور خدا کے فضل و کرم سے تیری مراد پوری ہو گی۔" ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں، ٣٧ ) ٢ - فضیلت، بڑائی بزرگی۔ "سودا کو اردو ہجو و ہجا میں نہ صرف فضلِ تقدم حاصل ہے بلکہ انکے کلام سے طنزیات کی بہترین صلاحیت و استعداد بھی نمایاں ہے۔" ( ١٩٣٣ء، طنزیات و مضحکات، ٤٦ ) ٣ - بخشش، عطا، احسان۔ "یہ فضل میرا ہے کہ جس کو جو چاہوں وہ دوں۔" ( ١٨٧٣ء، مظہر العجائب (ترجمہ)، ٦٢ ) ٤ - زیادتی، افزونی۔ "جُو کا مبادلہ جو سے جوی کا توں اوردست بدست چائے اور فضل (زیادتی) سود ہے۔" ( ١٩٧٤ء، فکر و نظر، اسلام آباد جنوری،خ ٥٢٥ ) ٥ - بچوں کے ڈرانے کا ایک فرضی نام جیسے دال چپاتی، اللہ میاں کی بھینس، ہوّا وغیرہ مثلاً اللہ میاں کے فضل دیکھ یہ روتا ہے۔" (فرہنگِ صیغہ)