فضیلت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بزرگی، برائی، بڑا درجہ۔ "محمدۖ جیسا فضیلت والا کوئی نہ پایا۔"      ( ١٩٧٦ء، مقالاتِ کاظمیِ، ٦٣ ) ٢ - برتری، فوقیت، ترجیح۔ "میر انیس کو بلاشبہ مرزا دبیر پر ترجیح و فضیلت حاصل ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، میر انیس حیات و شاعری، ١٦٣ ) ٣ - خوبی، شرف۔ "ہیرو کے ایک عیب یا خطا کا معلوم ہونا اسکی تمام فضیلتوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٩ ) ٤ - نیکی، خبر۔ "فلسفہ نیکی یا فضیلت کو حاصل کرنے یا مسرت کی عقلی تلاش کا نام ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٤١٦ ) ٥ - علم و فضل۔ "سوائے پروفیسر راجو کی شفقت اور انکی فضیلت سے استفادہ کرنے کے مجھے یہاں کچھ حاصل نہیں ہوا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٢٢٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و میہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بزرگی، برائی، بڑا درجہ۔ "محمدۖ جیسا فضیلت والا کوئی نہ پایا۔"      ( ١٩٧٦ء، مقالاتِ کاظمیِ، ٦٣ ) ٢ - برتری، فوقیت، ترجیح۔ "میر انیس کو بلاشبہ مرزا دبیر پر ترجیح و فضیلت حاصل ہے۔"      ( ١٩٦٧ء، میر انیس حیات و شاعری، ١٦٣ ) ٣ - خوبی، شرف۔ "ہیرو کے ایک عیب یا خطا کا معلوم ہونا اسکی تمام فضیلتوں پر پانی پھیر دیتا ہے۔"      ( ١٩٠١ء، حیات جاوید، ٩ ) ٤ - نیکی، خبر۔ "فلسفہ نیکی یا فضیلت کو حاصل کرنے یا مسرت کی عقلی تلاش کا نام ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، فلسفہ کیا ہے، ٤١٦ ) ٥ - علم و فضل۔ "سوائے پروفیسر راجو کی شفقت اور انکی فضیلت سے استفادہ کرنے کے مجھے یہاں کچھ حاصل نہیں ہوا۔"      ( ١٩٨٢ء، مری زندگی فسانہ، ٢٢٢ )

اصل لفظ: فضل
جنس: مؤنث