فقیری

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - غریبی، محتاجی، مفلسی۔ "خود اپنی صحت کی تباہی اور بعض اوقات فقیری غرض کہ ایک چیز ہے حقیقت تھی۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١١١ ) ٢ - ریاضت اور نفس کشی کا عمل، درویشی، ترکیب دینا۔ "میلانِ فقیری نے توکل، استغنا، تواضح اور انکسار کی صفات کو اور چمکا دیا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧٧:٣ ) ٤ - سبز رنگ کا لباس جو عشرۂ محرم میں بعض بزرگ پہنتے ہیں۔ "سات محرم کو فقیری کا خاص دن سمجھا جاتا تھا . سارا شہر سبز نظر آتا ہے حتٰی کہ پھوڑے پھنسی پر بھی سبز پٹی باندھی جاتی ہے یہ فقیری کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو نام، کراچی، ٧٣:٣ ) ٥ - فقیر کو دیا جانے والا نذرانہ۔ "بچے سبز رنگ کے کپڑے پہن کر اور گلے میں لال ڈوریاں ڈال کر امامین کے در کے فقیر بنتے اور فقیریاں پاتے۔"      ( ١٩٧١ء، ذکر یار چلے، ٢٩ ) ١ - فقیر سے منسوب یا متعلق، فقیر کا، فقیرانہ۔ "گیتوں کی ایک نئی صنف تخلیق ہوئی جو معرفتی اور مرشدی کہلائے عوام ان گیتوں کو فقیری گانا بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ١٠٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'فقیر' کے آخر پر 'ی' بطور لاحقہ کیفیت و نسبت لگانے سے بنا جو اردو میں بطور اسم و صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٤ء کو "مراثی میر انیس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - غریبی، محتاجی، مفلسی۔ "خود اپنی صحت کی تباہی اور بعض اوقات فقیری غرض کہ ایک چیز ہے حقیقت تھی۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١١١ ) ٢ - ریاضت اور نفس کشی کا عمل، درویشی، ترکیب دینا۔ "میلانِ فقیری نے توکل، استغنا، تواضح اور انکسار کی صفات کو اور چمکا دیا۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧٧:٣ ) ٤ - سبز رنگ کا لباس جو عشرۂ محرم میں بعض بزرگ پہنتے ہیں۔ "سات محرم کو فقیری کا خاص دن سمجھا جاتا تھا . سارا شہر سبز نظر آتا ہے حتٰی کہ پھوڑے پھنسی پر بھی سبز پٹی باندھی جاتی ہے یہ فقیری کہلاتی ہے۔"      ( ١٩٧٠ء، اردو نام، کراچی، ٧٣:٣ ) ٥ - فقیر کو دیا جانے والا نذرانہ۔ "بچے سبز رنگ کے کپڑے پہن کر اور گلے میں لال ڈوریاں ڈال کر امامین کے در کے فقیر بنتے اور فقیریاں پاتے۔"      ( ١٩٧١ء، ذکر یار چلے، ٢٩ ) ١ - فقیر سے منسوب یا متعلق، فقیر کا، فقیرانہ۔ "گیتوں کی ایک نئی صنف تخلیق ہوئی جو معرفتی اور مرشدی کہلائے عوام ان گیتوں کو فقیری گانا بھی کہتے ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، اردو گیت، ١٠٣ )

اصل لفظ: فقر
جنس: مؤنث