فقیہ
معنی
١ - ادراک و شعور رکھنے والا، علمِ فقہ کا عالم، علمِ دین کا فاضل، شرعی احکام و قوانین کا ماہر۔ "ادیب، شاعر اور دانشور، فلسفی، طبیب، مہندس، فقیہہ، نازک مزاج فرماں رواؤں کی متلون مزاج طبع کا شکار ہوتے آئے تھے۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٦٨ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ادراک و شعور رکھنے والا، علمِ فقہ کا عالم، علمِ دین کا فاضل، شرعی احکام و قوانین کا ماہر۔ "ادیب، شاعر اور دانشور، فلسفی، طبیب، مہندس، فقیہہ، نازک مزاج فرماں رواؤں کی متلون مزاج طبع کا شکار ہوتے آئے تھے۔" ( ١٩٨٦ء، فیضان فیض، ٦٨ )