فلق

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پھاڑنا، شگاف کرنا، اندھیرے کو چاک کرنا، سپیدہ، سحر، صبح کی روشنی، صبح کا اُجالا۔ "صبح کی فلق اور شام کی شفق کے پس منظر میں اس کا اثر ہمارے جذبات پر کیا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، سائنس اور فلسفہ کی تحقیق، ١٤ ) ٢ - سانپ کی ایک قسم۔ "ہوا کے نیچے آگ اور آگ کے نیچے ایک بڑا بھاری سانپ جس کا نام فلق ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، الف لیلہ ولیلہ، ٩٢:٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مصدر نیز فعل ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم و فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٨١٨ء کو "کلیاتِ انشا" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھاڑنا، شگاف کرنا، اندھیرے کو چاک کرنا، سپیدہ، سحر، صبح کی روشنی، صبح کا اُجالا۔ "صبح کی فلق اور شام کی شفق کے پس منظر میں اس کا اثر ہمارے جذبات پر کیا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، سائنس اور فلسفہ کی تحقیق، ١٤ ) ٢ - سانپ کی ایک قسم۔ "ہوا کے نیچے آگ اور آگ کے نیچے ایک بڑا بھاری سانپ جس کا نام فلق ہے۔"      ( ١٩٤٣ء، الف لیلہ ولیلہ، ٩٢:٤ )

اصل لفظ: فلق
جنس: مؤنث