فن

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دستکاری، صنعت، کاریگری، صلاحیت جو فطری نہ ہو بلکہ تجربہ، محنت اور مشق سے پیدا ہو۔ "اس کا اثر کاریگری، صناعی . فنِ تعمیر اور تفریحات پر کیا پڑ رہا ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٢٧ ) ٢ - خوبی، قابلیت، استعداد۔ "وہ اس فن میں کشور ناہید کو دادا دینے پر تلا نظر آتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٦ ) ٣ - ہنر، لیاقت، صلاحیت۔ "اسی چکر کو توڑنا فن ہے اس نے بات ختم کی۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ١٣٨ ) ٤ - مشغلہ، کاروبار، پیشہ۔ "ان علاقوں کے لوگوں کے جذبات عقائد، مسلک، فن، تعمیر . وفاداریاں باقی ملک کے لوگوں سے مختلف تھیں۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٥ ) ٥ - شمشیر بازی کے دانو۔ "جب تلوار بازی کا فن تمام ہوا، تب کمر بند دونوں کا دونوں نے پکڑ کے زور کرنے لگے۔"      ( ١٨٠٠، قصہ گل و ہرمز (ق)، ٧٨ ) ٦ - مکر، حیلہ، فریب۔ "مہاراج ایسی بات منہ سے نہ نکالیے یہ اشڑ میں پلی بڑی ہے فن فریب کیا جانے۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلہ، اختر حین رائے پوری، ١٢٩ ) ٧ - چال، ترکیب، تدبیر۔  وہ کپڑے گوپھٹے تھے ہم پر اپنے فن میں تھے پورے لگا رکھتے تھے ایسے وقت پہ بچہ گلہری کا      ( ١٨٣٠ء، کلیاتِ نظیر، ٨٨:٢ ) ٨ - علم و ہنر کا وہ شعبہ جسکی تکمیل میں قوائے متخیلہ اور قوائے دماغی سے کام لیا جائے۔  ہوئی اُمید کہ اب قیدِ فن سے اٹھتی ہے اک آگ سی میرے تن بدن سے اٹھتی ہے      ( ١٩٧٢ء، لاحاصل، ١٠٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ جو اردو میں اپنے اصل مفہوم و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دستکاری، صنعت، کاریگری، صلاحیت جو فطری نہ ہو بلکہ تجربہ، محنت اور مشق سے پیدا ہو۔ "اس کا اثر کاریگری، صناعی . فنِ تعمیر اور تفریحات پر کیا پڑ رہا ہے۔"      ( ١٩٤٤ء، آدمی اور مشین، ٢٧ ) ٢ - خوبی، قابلیت، استعداد۔ "وہ اس فن میں کشور ناہید کو دادا دینے پر تلا نظر آتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ٣٦ ) ٣ - ہنر، لیاقت، صلاحیت۔ "اسی چکر کو توڑنا فن ہے اس نے بات ختم کی۔"      ( ١٩٨٨ء، نشیب، ١٣٨ ) ٤ - مشغلہ، کاروبار، پیشہ۔ "ان علاقوں کے لوگوں کے جذبات عقائد، مسلک، فن، تعمیر . وفاداریاں باقی ملک کے لوگوں سے مختلف تھیں۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ١٥ ) ٥ - شمشیر بازی کے دانو۔ "جب تلوار بازی کا فن تمام ہوا، تب کمر بند دونوں کا دونوں نے پکڑ کے زور کرنے لگے۔"      ( ١٨٠٠، قصہ گل و ہرمز (ق)، ٧٨ ) ٦ - مکر، حیلہ، فریب۔ "مہاراج ایسی بات منہ سے نہ نکالیے یہ اشڑ میں پلی بڑی ہے فن فریب کیا جانے۔"      ( ١٩٣٨ء، شکنتلہ، اختر حین رائے پوری، ١٢٩ )

اصل لفظ: فنن
جنس: مذکر