فوارہ

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - پانی کی پھوار، پھوار پیدا کرنے والا آلہ بالکل، ٹونٹی، نلکا وغیرہ۔ "اسکے بیچوں بیچ فوارہ ہے جہاں مسلمان اپنی نماز ادا کرنے سے پیشتر وضو کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، غدر کی صبح و شام، ٣٤ ) ٢ - کسی سیال شے کی دھار یا پھوار جیسے خون کا فوارہ، پھوارہ ابال، جوش، دھار کی شکل میں خون یا پانی نکلنے کی کیفیت۔ "اس نے پانی کا فوارہ چھوڑا۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، مارچ، ٢١٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٧٢ء کو "کلیات شاہی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پانی کی پھوار، پھوار پیدا کرنے والا آلہ بالکل، ٹونٹی، نلکا وغیرہ۔ "اسکے بیچوں بیچ فوارہ ہے جہاں مسلمان اپنی نماز ادا کرنے سے پیشتر وضو کرتے ہیں۔"      ( ١٩٢٥ء، غدر کی صبح و شام، ٣٤ ) ٢ - کسی سیال شے کی دھار یا پھوار جیسے خون کا فوارہ، پھوارہ ابال، جوش، دھار کی شکل میں خون یا پانی نکلنے کی کیفیت۔ "اس نے پانی کا فوارہ چھوڑا۔"      ( ١٩٨٨ء، افکار، کراچی، مارچ، ٢١٦ )

اصل لفظ: فور
جنس: مذکر