فٹا

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - فٹ سے منسوب اور متعلق۔ "کہاں یہ چھ فُٹا دو ٹنگا اور کہاں یہ وسیع و عریض ہیبت ناک نظام شمسی۔"      ( ١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ٢٣ جولائٍ، ٣ ) ١ - بارہ انچ کا پیمانہ۔ "وہ تو فُٹے اور نوک دار پنسل سے بھی کاغذ پر سیدھی لائن نہیں کھینچ پاتا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٩٨ )

اشتقاق

انگریزی اسم فٹ کا مؤرد ہے جو اصل لفظ 'فُٹ' کے بعد 'ا' بطور لاحقۂ اسمیت و نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز بطور حرف استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٩٦٩ء کو "جنگ، کراچی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فٹ سے منسوب اور متعلق۔ "کہاں یہ چھ فُٹا دو ٹنگا اور کہاں یہ وسیع و عریض ہیبت ناک نظام شمسی۔"      ( ١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ٢٣ جولائٍ، ٣ ) ١ - بارہ انچ کا پیمانہ۔ "وہ تو فُٹے اور نوک دار پنسل سے بھی کاغذ پر سیدھی لائن نہیں کھینچ پاتا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٩٨ )

اصل لفظ: فٹ(foot)
جنس: مذکر