فکاہیہ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - فکاہی، طریفانہ، مزاحیہ۔ "اب قطعہ کلامی کی صورت میں انکے فکاہیہ اور طنزیہ اردو قطعات اہل نظر کے سامنے آرہے ہیں۔" ( ١٩٨٦ء، قطعہ کلامی، ١١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق صفت 'فکاہی' کے آخر پر لاحقہ تانیث 'ہ' لانے سے بنا اور اردو میں بطور صفت ہی مستعمل ہے۔ ١٩٨٦ء کو "قطعہ کلامی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فکاہی، طریفانہ، مزاحیہ۔ "اب قطعہ کلامی کی صورت میں انکے فکاہیہ اور طنزیہ اردو قطعات اہل نظر کے سامنے آرہے ہیں۔" ( ١٩٨٦ء، قطعہ کلامی، ١١ )
اصل لفظ: فکہ
جنس: مؤنث