فگار
معنی
١ - واماندہ، عاجز، گھائل، مجروح۔ "اس سے غرض نہیں کہ سر پھٹ گیا یا اُنگلیاں فگار ہوئیں لیکن پانچ سال کی سخت ریاضت کے بعد . اپنے فن میں کامل تھے۔" ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسمِ صفت ہے اردو میں بھی بطور صفت ہی استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٢٨ء کو "مرآت الحشر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔ تراکیب و مرکبات میں بطور لاحقہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
مثالیں
١ - واماندہ، عاجز، گھائل، مجروح۔ "اس سے غرض نہیں کہ سر پھٹ گیا یا اُنگلیاں فگار ہوئیں لیکن پانچ سال کی سخت ریاضت کے بعد . اپنے فن میں کامل تھے۔" ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١١ )