فہم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عقل ، خرد، سمجھ، سمجھ بوجھ۔ "اس میں اُنکی فہم کا قصور تھا یا انکی سیاست گری کے تقاضوں کا اس کا جواب ہمارے پاس نہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٤٨٥ ) ٢ - علم، سمجھ، ادراک حاصل کرنا۔  وہ نام جس پہ فرشتے بھی بھیجتے ہیں درود ہمار فہم کی حد سے بلند جس کا مقام      ( ١٩٨٤ء، زادِ سفر، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل ، خرد، سمجھ، سمجھ بوجھ۔ "اس میں اُنکی فہم کا قصور تھا یا انکی سیاست گری کے تقاضوں کا اس کا جواب ہمارے پاس نہیں۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ٤٨٥ )

اصل لفظ: فہم
جنس: مؤنث