فیر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - بندوق اور توپ وغیرہ کا داغنا، گولی چلانا یا چلنا۔ "تو ایک فیر میں قصہ تمام تھا۔"      ( ١٩٣٢ء، نیرنگ خیال، لاہور، اپریل، ٢٥ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں متغیرہ املاء کے ساتھ (عربی رسم الخط میں) اپنے اصل معنوں میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ماخذزبان میں بطور فعل بھی مستعمل ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٠٣ء کو "گنج خوبی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - بندوق اور توپ وغیرہ کا داغنا، گولی چلانا یا چلنا۔ "تو ایک فیر میں قصہ تمام تھا۔"      ( ١٩٣٢ء، نیرنگ خیال، لاہور، اپریل، ٢٥ )

اصل لفظ: fire
جنس: مذکر