فیض

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فائدہ، نفع۔ "میں اگر ہجرت نہ کرتا تو ہندوستان کو میری ذات سے کیا فیض پہنچتا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٣١ ) ٢ - کرم، بخشش، عنایت، مہربانی۔ "یہ سب کچھ پاکستان کا فیض ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٣٦ ) ٣ - اثر، برکت۔ "اسی طرح آج میرے فیض سے جدید شاعری کا سرچشمہ جاری ہے۔"      ( ١٩٤٩ء، اک محشرِ خیال، ٤٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ جو اردو میں اپنے اصل معنی اور ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فائدہ، نفع۔ "میں اگر ہجرت نہ کرتا تو ہندوستان کو میری ذات سے کیا فیض پہنچتا۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ٣١ ) ٢ - کرم، بخشش، عنایت، مہربانی۔ "یہ سب کچھ پاکستان کا فیض ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائل پاکستان، ٣٦ ) ٣ - اثر، برکت۔ "اسی طرح آج میرے فیض سے جدید شاعری کا سرچشمہ جاری ہے۔"      ( ١٩٤٩ء، اک محشرِ خیال، ٤٨ )

اصل لفظ: فیض
جنس: مذکر