قابض

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - خدائے تعالٰی کا ایک صفات ینام، نپی تُلی روزی دینے والا۔  تُو غفور و باسط و حق واسع و قابض ہے تُو تُو شکور و عفو ہے اور رافع و خافض ہے تُو      ( ١٩٨٤ء، الحمد، ٨٤ ) ٢ - روکنے والا، پکڑنے والا، قبضہ کرنے والا، قبضہ رکھنے والا۔ "بدقسمتی سے قائدین کے رخصت ہوتے ہی ملک پر نوکر شاہی قابض ہو گئی۔"      ( ١٩٨٦ء، رؤدادِ چمن، ١١٢ ) ٣ - [ طب ]  قبض پیدا کرنے والا، وہ چیز جو قبض پیدا کرے۔ "دودھ وزن بڑھاتا ہے، قابض ہے۔"      ( ١٩٨١ء، متوازن غذا، ٢٦ ) ٤ - جان قبض کرنے والا، روح کھینچنے والا۔ "شراتن ممتنع الوجود، اس کا قابض کرنے ہارا عزرائیل۔"      ( ١٤٢١ء، معراج العاشقین، ١٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - روکنے والا، پکڑنے والا، قبضہ کرنے والا، قبضہ رکھنے والا۔ "بدقسمتی سے قائدین کے رخصت ہوتے ہی ملک پر نوکر شاہی قابض ہو گئی۔"      ( ١٩٨٦ء، رؤدادِ چمن، ١١٢ ) ٣ - [ طب ]  قبض پیدا کرنے والا، وہ چیز جو قبض پیدا کرے۔ "دودھ وزن بڑھاتا ہے، قابض ہے۔"      ( ١٩٨١ء، متوازن غذا، ٢٦ ) ٤ - جان قبض کرنے والا، روح کھینچنے والا۔ "شراتن ممتنع الوجود، اس کا قابض کرنے ہارا عزرائیل۔"      ( ١٤٢١ء، معراج العاشقین، ١٩ )

اصل لفظ: قبض
جنس: مذکر