قابل

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سزاوار، اہل، لائق، مستحق۔ "طرز کو طرز ہی سمجھنا چاہیے نہ کہ ایک متبرک اور ہر لحاظ سے قابلِ صد تقلید شے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ١٢٥ ) ٢ - استعداد رکھنے والا، اہلیت رکھنے والا۔ "یہ جس طرح انتظامِ ملکی میں مشاق تھے اسی طرح . ایک قابل جرنیل تھے۔"      ( ١٩٤٧ء، مضامین فرحت، ١٩٧:٤ ) ٣ - لکھا پڑھا، عالم، فاضل۔  پھر آپ ہی آپ بولا کہ اک اور افادہ سُن گر قابل اپنے ہونے کی دل میں رکھے ہے دُھن      ( ١٨١٠ء، کلیاتِ میر، ١٠٣٠ ) ٤ - [ قدیم ]  پسند کرنے والا؛ مراد عاشق۔  محمدۖ ہے موصول واصل ہے اللہ محمدۖ ہے مقبول، قابل ہے اللہ      ( ١٨٠٩ء، دیوانِ شاہ کمال، ٤٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے بلحاظ معنی و ساخت مِن و عن داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سزاوار، اہل، لائق، مستحق۔ "طرز کو طرز ہی سمجھنا چاہیے نہ کہ ایک متبرک اور ہر لحاظ سے قابلِ صد تقلید شے۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ١٢٥ ) ٢ - استعداد رکھنے والا، اہلیت رکھنے والا۔ "یہ جس طرح انتظامِ ملکی میں مشاق تھے اسی طرح . ایک قابل جرنیل تھے۔"      ( ١٩٤٧ء، مضامین فرحت، ١٩٧:٤ )

اصل لفظ: قبل