قابو

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فرصت، موقع، مہلت۔  شہباز جان نے ڈال دیے تھک کے بال و پر قابو ملا نہ مرغ جنوں کے شکار کاح١٩٠ء، دیوانِ حبیب، ٩ ٢ - اختیار، بس، زور، مقدور۔ "فعلیاتی عملیات مثلاً دل کا دھڑکنا، تنفس، شکار پکڑنا، تحول وغیرہ کو قابو میں رکھتا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، اساسی حیوانات، ١٧٢ ) ٣ - پہنچ، دسترس، اختیار۔  ہاتھ آنا غیر ممکن طائرِ آزاد کا دیکھتا ہے دور سے قابو نہیں صیاد کا      ( ١٨٦٥ء، دیوان نسیم دہلوی، ٤٤ ) ٤ - دانْو، گھات، کمین۔ "سپاہ تیار کر کے اوس نے پیش قدمی کی اور بادشاہی لشکر کے نزدیک نزدیک وہ اپنا قابو ڈھونڈتا تھا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٦٣:٣ )

اشتقاق

ترکی زبان سے ماخوذ ہے۔ اصل معنی کے ساتھ عربی رسم الخط میں مستعمل ملتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٥٤ء کو "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - اختیار، بس، زور، مقدور۔ "فعلیاتی عملیات مثلاً دل کا دھڑکنا، تنفس، شکار پکڑنا، تحول وغیرہ کو قابو میں رکھتا ہے۔"      ( ١٩٨١ء، اساسی حیوانات، ١٧٢ ) ٤ - دانْو، گھات، کمین۔ "سپاہ تیار کر کے اوس نے پیش قدمی کی اور بادشاہی لشکر کے نزدیک نزدیک وہ اپنا قابو ڈھونڈتا تھا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ١٦٣:٣ )

جنس: مذکر