قاتل
معنی
١ - قتل کرنے والا، ہلاک کرنے والا، خونی۔ "یہ تو پکا چور ہے غنڈا، قاتل، خونی بنے گا۔" ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣٤ ) ٢ - مہلک، جان لیوا۔ "غلطی سے جو چیز دوا سمجھ کر کھائی قاتل تھی، ہلاکت وقوع میں آئی۔" ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٨٣ ) ٣ - [ کنایۃ ] معشوق، محبوب۔ کوئی سمجھے نہ سمجھے خود ہمارا دل سمجھتا ہے! ہمیں بھی اپنے جانبازوں میں وہ قاتل سمجھتا ہے ( ١٩١٠ء، خوبی سخن، ٣١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ اردو میں عربی سے معنی اور ساخت کے اعتبار سے من و عن داخل ہوا اور بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "میناستونتی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - قتل کرنے والا، ہلاک کرنے والا، خونی۔ "یہ تو پکا چور ہے غنڈا، قاتل، خونی بنے گا۔" ( ١٩٨٧ء، روز کا قصہ، ١٣٤ ) ٢ - مہلک، جان لیوا۔ "غلطی سے جو چیز دوا سمجھ کر کھائی قاتل تھی، ہلاکت وقوع میں آئی۔" ( ١٩٣٠ء، اردو گلستان، ٨٣ )