قارون
معنی
١ - بنی اسرائیل کا ایک مالدار شخص جو نہایت کنجوس تھا اور جس نے اس قدر روپیہ جمع کیا تھا کہ چالیس خچر صرف اس کے خزانوں کی کنجیاں لے کر چلا کرتے تھے، حضرت موسٰی نے ان کو حکم دیا کہ ہزار دینار پر ایک دینار زکٰوۃ دیا کر تو وہ ان سے منحرف ہو گیا، بالآخر حضرت موسٰی کی بد دعا سے زمین میں مع اپنے خزانوں کے دھنس گیا۔ "وہ طرح طرح کے روپ دھارتے تھے، قارون کا فرعون کا . ہر قل کا لیکن کتے سبھی پالتے تھے۔ ( ١٩٤٧ء، حصار، ١٧٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے اسم علم ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے لحاظ سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بنی اسرائیل کا ایک مالدار شخص جو نہایت کنجوس تھا اور جس نے اس قدر روپیہ جمع کیا تھا کہ چالیس خچر صرف اس کے خزانوں کی کنجیاں لے کر چلا کرتے تھے، حضرت موسٰی نے ان کو حکم دیا کہ ہزار دینار پر ایک دینار زکٰوۃ دیا کر تو وہ ان سے منحرف ہو گیا، بالآخر حضرت موسٰی کی بد دعا سے زمین میں مع اپنے خزانوں کے دھنس گیا۔ "وہ طرح طرح کے روپ دھارتے تھے، قارون کا فرعون کا . ہر قل کا لیکن کتے سبھی پالتے تھے۔ ( ١٩٤٧ء، حصار، ١٧٢ )