قاری

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - حروف کے مخارج کے موافق قرآن شریف پڑھنے والا، علم قرٔت سے واقف۔ "حضرت اُسَیْد . حضرت اُسید . حضرت معصب بن عمیر کے ہاتھ پر مدینے میں اسلام لائے، بڑے خوش الحان قاری تھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٢٥:٣ ) ١ - پڑھنے والا۔ "عجلت پسندی کے ان عالم گیر اثرات سے ادب کا قاری بھی لاتعلق نہیں رہ سکتا۔"      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا اور بطور اسم نیز بطور صفت مستعمل ہے۔ پہلی بار ١٧٤٦ء کو "قصہ فغفور چین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حروف کے مخارج کے موافق قرآن شریف پڑھنے والا، علم قرٔت سے واقف۔ "حضرت اُسَیْد . حضرت اُسید . حضرت معصب بن عمیر کے ہاتھ پر مدینے میں اسلام لائے، بڑے خوش الحان قاری تھے۔"      ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٤٢٥:٣ ) ١ - پڑھنے والا۔ "عجلت پسندی کے ان عالم گیر اثرات سے ادب کا قاری بھی لاتعلق نہیں رہ سکتا۔"      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٧ )

اصل لفظ: قرء
جنس: مذکر