قاصد
معنی
١ - قصد کرنے والا، ارادہ کرنے والا۔ میرا غم دفع کرنے کوں وو عالی جاہ قاصد نئیں توں آوے کیوں میرے نزدیک کچھ گمراہ قاصد نئیں ( ١٧٠٧ء، کلیاتِ ولی، ١٦٤ ) ٢ - پیغام لے جانے والا، ایلچی، نامہ بر، سفیر۔ "سٹی مجسٹریٹ کا قاصد جلسہ کے اندر آیا۔" ( ١٩٨٤ء، مقاصدو مسائلِ پاکستان، ٨٧ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں بلحاظ معنی و ساخت بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - پیغام لے جانے والا، ایلچی، نامہ بر، سفیر۔ "سٹی مجسٹریٹ کا قاصد جلسہ کے اندر آیا۔" ( ١٩٨٤ء، مقاصدو مسائلِ پاکستان، ٨٧ )