قاطع

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - کاٹنے والا، قطع کرنے والا، رد کرنے والا۔ "سگی ماں، بہن، بیٹی وغیرہ جیسے رشتوں میں انٹر کورس بیالوجیکل ریسرچ کے مطابق نسلِ انسانی کے لیے مضر اور قاطع ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢٩ ) ٢ - [ کنایۃ ]  لاجواب کرنے والا، رد کرنے والا، فیصلہ کن، حتمی۔ "ان منکرین حدیث کی حجت کے لیے بھی قاطع ہے جو نبیۖ کی تشریح و توضیح کے بغیر صرف ذکر کو لے لینا چاہتے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٢٩١:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے۔ عربی سے اردو میں معنی و ساخت کے لحاظ من و عن داخل ہوا اور بطور اسم صفت استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٤٥ء کو "احوال انبیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کاٹنے والا، قطع کرنے والا، رد کرنے والا۔ "سگی ماں، بہن، بیٹی وغیرہ جیسے رشتوں میں انٹر کورس بیالوجیکل ریسرچ کے مطابق نسلِ انسانی کے لیے مضر اور قاطع ہیں۔"      ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢٩ ) ٢ - [ کنایۃ ]  لاجواب کرنے والا، رد کرنے والا، فیصلہ کن، حتمی۔ "ان منکرین حدیث کی حجت کے لیے بھی قاطع ہے جو نبیۖ کی تشریح و توضیح کے بغیر صرف ذکر کو لے لینا چاہتے ہیں۔"      ( ١٩٧٢ء، سیرت سرور عالمۖ، ٢٩١:١ )

اصل لفظ: قطع
جنس: مذکر