قافلہ

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - مسافروں یا تاجروں کا گروہ جو مل کر سفر کرے، کارواں۔  ازل سے قافلۂ ارتقا روانہ تھا! جو آج پہنچا ہے انسان کے آستانے تک      ( ١٩٥٩ء، پتھر کی لکیر، ٦٤ ) ٢ - [ مجازا ]  گروہ، کنبہ، قبیلہ۔ "اسے اپنے قافلہ سے بڑا لگاؤ تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٢٧ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے اردو میں بلحاظ معنی و ساخت من و عن داخل ہوا اور اسم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ١٨٢٤ء کو "دیوانِ مصحفی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ مجازا ]  گروہ، کنبہ، قبیلہ۔ "اسے اپنے قافلہ سے بڑا لگاؤ تھا۔"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ٢٧ )

اصل لفظ: قفل
جنس: مذکر